Look for any podcast host, guest or anyone
Showing episodes and shows of

QIST

Shows

Grounded2026-02-2621 minDnDienstag2026-02-031h 47The Comparable2025-12-0348 minDnDienstag2025-10-211h 41The Deep dive podcast2025-09-2033 minQuestions and Answers | سوال اور جواب Archives - Ashabulhadith2025-09-0700 minQuantum Basics Weekly2025-01-2403 minQuantum Basics Weekly2025-01-2302 minNouman Ali Khan: Bayyinah Podcast2024-10-1231 minThe Daily Scoop Podcast2024-08-1405 minThe Mitchell Institute’s Aerospace Nation Podcast2024-01-3055 minRunway to Feminist Justice2023-11-1426 minTechnologies2023-05-1201 minThought Behind Things2022-07-011h 14Mehfil2022-06-2919 minMehfil2022-06-2707 minMehfil2022-06-2515 minMehfil2022-06-2417 minMehfil2022-06-2226 minVALUEVERSITY
VALUEVERSITYSLAVE TRADE, GULAAM TIJAARAT, DADA AUR DILDADAH URDU/HINDI SHORT STORY SERIAL, INSHAY SERIAL, CHODWA QIST, EPISODE 14Trafficking of Africans by the major European countries for about 350 years is a crime against humanity. This story is about greed and cruelty, but also about the will to survive and to be free. غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط، شارق علی انکل کی ملازمہ نصیبن کا باپ قرض کے بدلے بوڑھے زمیندار سے اس کی شادی  پر راضی ہوا تو یانی آپا کا غصہ قابل دید تھا۔ اس شام ہمت کر کے میں نے کہا۔ شادی تو سب کی ہونی ہی ہوتی ہے، نصیبن کی شادی میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگیں یہ شادی نہیں غلام تجارت ہے ممدو۔ کوئی با ضمیر ایسا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے گفتگو کو طول دیا۔ غلام تجارت کیا ہوتی ہے یانی آپا؟ کہنے لگیں۔ یوں تو یہ ظلم آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے، لیکن منظم طور پر سیاہ فام افریقی غلاموں کو امریکہ لے جاکر فروخت کرنا پندرھویں صدی میں پرتگالیوں اور کچھ ہسپانویوں نے شروع کیا تھا۔ برطانوی تاجر سولہویں صدی میں اس مذموم تجارت میں شامل ہوئے اور پھر اسے عروج  پر پہنچا کر سب سے زیادہ منافع کمایا۔ اٹھارہویں صدی تک ساٹھ لاکھ افریقی امریکہ میں بیچے گئے اور تقریبا تیس لاکھ نے راستے میں دم توڑ دیا۔ کم از کم ہر تیسرے غلام کی تجارت کے  ذمہ دار برطانوی تاجرتھے۔ وہ برطانیہ سے اسلحہ اور برانڈ ی  جہازوں پر لادتے اور افریقی ملکوں جیسے انگولا اور کونگو وغیرہ میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کو بیچ کر ان کے سیاسی مخالفین، قیدی اور بعض اوقات گائوں اور دیہاتوں سے سیاہ فام معصوموں کو قید کر کے غلام بنا لیتے۔ پھر انہیں سینکڑوں میل پیدل چلا کر بندرگاہوں کی ان جیلوں تک لاتے جنہیں وہ فیکٹریاں کہتے تھے۔ پھر ان بے گناہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح  چار مربع فٹ کے پنجروں میں جانوروں سے بھی بد تر حالت میں امریکہ لے جایا جاتا۔ سات ہفتوں کے اس سفر میں تقریبا پندرہ فی صد غلام بھوک یا بیماری یا فرار ہونے کی کوشش میں دم توڑ دیتے۔ امریکہ میں وہ ان غلاموں کو شراب اور شکر کے عوض فروخت کرتے اور یہ مال برطانیہ لا کر خوب دولت کماتے۔ یہ سچ ہے کہ اس ظالمانہ کاروبار نے برطانوی معیشت کو مضبوط کیا تھا۔ ادھر امریکہ میں ان غلاموں کے ستھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا۔ فیصل کاٹنے کے موسم میں اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کی مشقت لی جاتی۔ بالآخر کچھ مفرور اور باغی غلاموں نے انگلستان میں افریقہ کے بیٹے نامی تنظیم بنائی اور اس ظلم کے خلاف خطوط لکھنے کی مہم چلا کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ غلام تجارت کے خلاف پہلے مظاہرے کی قیادت ٹیکی نے کی تھی جو خود ایک غلام رہ چکا تھا۔عوامی رائے ہموار ہونا شروع ہوئی تو سترہ سو ستاسی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ پھر برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں نے برطانوی پارلیمنٹ کو غلام تجارت پر پابندی لگانے پر مجبور کردیا۔ پھر امریکہ میں بھی اس کاروبار پر پابندی لگی اور یوں ساڑھے چار سو سال تک جاری رہنے والایہ گھناونا کاروبار ختم  ہوا۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔  www.valueversity.com
2022-02-1503 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0745 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0743 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0746 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0752 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0647 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-0644 minQue la igualdad sea tendencia2021-11-061h 00Mehfil2021-07-1421 minMehfil2021-07-1409 minMehfil2021-07-1210 minQue la igualdad sea tendencia2021-07-011h 00Que la igualdad sea tendencia2020-10-2300 minQue la igualdad sea tendencia2020-10-1300 minQue la igualdad sea tendencia2020-10-0500 minQue la igualdad sea tendencia2020-10-0240 minQue la igualdad sea tendencia2020-09-1554 minQue la igualdad sea tendencia2020-09-1259 minQue la igualdad sea tendencia2020-09-0150 minQue la igualdad sea tendencia2020-08-1949 minQue la igualdad sea tendencia2020-08-1143 minQue la igualdad sea tendencia2020-08-0430 minQue la igualdad sea tendencia2020-07-261h 20Que la igualdad sea tendencia2020-07-2147 minQue la igualdad sea tendencia2020-07-141h 09Que la igualdad sea tendencia2020-07-0750 minQue la igualdad sea tendencia2020-06-3029 minQue la igualdad sea tendencia2020-06-2353 minQue la igualdad sea tendencia2020-06-1821 minMehfil2019-05-2316 minMehfil2019-02-0714 minMehfil2019-02-0410 min